Sort news by: Date | Popularity | Attendance | Commentaries | Alphabet

Ghazal : Ek diya hai jo andheron main jala rakha hai.

Author: N I S H A at 21-12-2011, 02:59, Views: 9

0
Toone ye phool jo julfon men saja rakha hai
ik diya hai jo andheron men jala rakha hai

Jit le jaye koee mujhako nasibon vala
jindagi ne mujhe davon pe laga rakha hai.

Jane kab aaye koee dil men jhankane vala
is liye mainne girahaban khula rakha hai.

Imtihan aur mere jabt ka tum kya loge
mainne dhadakan ko bhi sine men chhupa rakha hai.

Category: Novels/Poetry » HindiUrduPoetry

 

سمبر مجھے راس آتا نہیں

Author: N I S H A at 21-12-2011, 02:58, Views: 5

0


(۱۹۹۵ء کی آخری نظم)


کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
... شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جاں میں سانسوں کی پَرتیں اُلٹتے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے!

چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رَگیں چھیلتے ہیں
مگر میں ہر اِک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اَٹی زندگی کی دُعا دے کے
اَب تک وہی " جستجو " کا سَفر کر رہا ہُوں

سفر زندگی ہے
سفر آگہی ہے
سفرآبلہ پائی کی داستاں ہے
سفر عمر بھی کی سُلگتی ہوئی خواہشوں کا دھواں ہے!

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے!
مسلسل سفر کے خم و پیچ میں
سانس لیتی ہوئی زندگی تھک گئی ہے
کہ جذبوں کی گیلی زمینوں میں
بوئے ہوئے روزو شب کی ہر اک فصل اب" پک " گئی ہے

گزرتا ہوا سال بھی آخری ہچکیاں لے رہا ہے
میرے پیش و پَس
خوف، دہشت، اَجل، آگ، بارود کی مَوج
آبادیاں نوچ کر اپنے جبڑوں میں جکڑی ہوئی زندگی کو
درندوں کی صُورت
نِگلنے کی مشقوں میں مصروف تر ہے
ہر اک راستہ، موت کی رہ گزر ہے

گزرتا ہوا سال جیسے بھی گزرا
مگر سال کے آخری دِن
نہایت کٹھن ہیں
ہر اک سَمت لاشوں کے اَنبار
زخمی جنازوں کی لمبی قطاریں
کہاں تک کوئی دیکھ پائے؟
ہواؤں میں بارُود کی باس
خود اَمن کی نوحہ خواں ہے
کوئی چارہ گر، عصرِ حاضر کا کوئی مسیحا کہاں ہے؟

مرے ملنے والو!
نئے سال کی مُسکراتی ہوئی صبح ۔۔۔۔۔۔۔۔ گر ہاتھ آئے
تو مِلنا!!

کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہُوا دل
دھڑکتا تو ہے
مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

(شاعر: محسن نقوی)

Category: Novels/Poetry » HindiUrduPoetry

 

حروف کی روشنائی لے کر، بَدیدۂِ تر حسین لکھنا

Author: N I S H A at 21-12-2011, 02:56, Views: 3

0


حروف کی روشنائی لے کر، بَدیدۂِ تر حسین لکھنا
تم ایسا کرنا کتابِ دل کے ورق ورق پر حسین لکھنا

حروف خوشبو کے پھول بن کر، تمہارے سینے سے کِھل اٹھیں گے
تم ایسا کرنا کہ اپنی آنکھوں سے اپنے دل پر حسین لکھنا

تمہارے تاریک منظروں میں، اجالے پھوٹیں گے پھول بن کر
تم ایسا کرنا کہ اپنے گھر میں، دُرود پڑھ کر حسین لکھنا

اگر کتابت کا شوق ہو تو کتابِ صبر و رضا میں محسن
جہاں شہیدوں کے نام لکھنا، تو سب سے اوپر حسین لکھنا

Category: Novels/Poetry » HindiUrduPoetry

 

ماں

Author: N I S H A at 21-12-2011, 02:52, Views: 10

0

ہو گئے جواں بچے، بوڑھی ہو رہی ہے ماں
بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں


روٹی اپنے حصّے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے،بھوکی سو رہی ہے ماں


سانس کی مریضہ ہے پھر بھی ٹھنڈے پانی سے
کتنی سخت سردی میں کپڑے دھو رہی ہے ماں


غیر کی شکایت پر، پھر کسی شرارت پر
مار کر مجھے، خود بھی رو رہی ہے ماں

Category: Novels/Poetry » HindiUrduPoetry